العربی   اردو   English   فارسی درباره ما     تماس با ما     اعضای موسسه
چهارشنبه 6 ارديبهشت 1396
تلگرام  اینستاگرام  آپارات  گوگل پلاس دین پژوهان  ایمیل دین پژوهان
کد : 14927      تاریخ : 1394/5/14 09:04:32      بخش : ثقافتی اور سائنسی خبریں print

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رمضان المبارک میں مصر کے ٹی وی چینل سے نشر شدہ شیخ الازہر کی گفتگو میں شیعوں پر لگائے جانے والی ناروا تہمتوں پر ایران کے مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر احمد الطیب کے نام ایک خط لکھا جس میں انہیں شیعہ سنی علماء کی ایک مشترکہ علمی کانفرنس کے انعقاد کی دعوت دی۔
یہ خط جو ماہ مبارک رمضان کی ۲۹ ویں تاریخ کو لکھا گیا اس کا مکمل ترجمہ حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
شیخ الازہر جناب ڈاکٹر احمد الطیب صاحب
سلام علیکم و رحمۃ ا۔۔۔
عید سعید فطر کی مناسبت سے مبارک باد پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں۔
سب سے پہلے آپ کا اس بات پر شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اس سال ماہ مبارک رمضان میں ’’حدیث شیخ الازہر‘‘ کے عنوان سے امامت اور صحابہ کے موضوع پر شیعہ سنی اختلافات کے بارے میں ٹیلیویزن پر مسلسل گفتگو کی۔ مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی پیدا کرنے کے لیے آپ کی تلاش و کوشش قابل قدر ہے۔
ہم آپ کی بعض باتوں پر بہت خوش ہیں جو آپ نے ان پروگراموں میں بیان کیں جیسے’’ شیعہ سنی، امت مسلمہ کے دو پر ہیں اور اس وقت جو شیعوں اور سنیوں کے درمیان ہو رہا ہے یہ مذہب کے نام پر مسلمانوں کو نابود کرنے کی سازش ہے‘‘، ’’ جب تک شیعہ و سنی شہادتین پر ایمان رکھتے ہوں تو الازہر شیعہ و سنی کے درمیان کسی طرح کے فرق کی قائل نہیں ہے‘‘۔ یہ آپ کی وہ باتیں ہیں جو فکری اور اعتقادی میدان میں الازہر کے اعتدال پسندانہ رویہ کی عکاسی کرتی ہیں۔ لیکن اجازت دیں آپ کے ان پروگراموں میں بیان کی گئیں کچھ دیگر باتوں کی طرف بھی اشارہ کریں:
پہلی بات یہ کہ صحابہ کو گالیاں دینے اور لعن طعن کرنے کا مسئلہ جو آپ نے بعض شیعہ افاضل کی طرف منسوب کیا اس کے بارے میں کہا جائے کہ تمام شیعہ مراجع اس کام ( صحابہ کو گالیاں دینا) سے طلب برائت کرتے ہیں۔ صرف بعض شیعہ عوام جو قابل توجہ بھی نہیں ہیں اس طرح کے کاموں میں سبقت اختیار کرتے ہیں۔
دوسری بات یہ کہ ہمارا یہ ماننا ہے کہ شیعہ عقائد کے بارے میں جو باتیں آپ نے ان پروگراموں میں بیان کیں وہ قابل بحث و تنقید ہیں۔
ہم اس احترام کے ساتھ جو آپ کی نسبت قائل ہیں یہ کہنا چاہیں گے کہ اس طرح کی باتیں میڈیا کے راستے سے بیان کرنا شیعوں اور سنیوں کے درمیان اختلافات کو مزید ہوا دینے کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں رکھتیں اور بہت سارے اسلام دشمن ان باتوں کو اپنے مقاصد کے لیے ہھتکنڈہ بنانے کی کوشش کریں گے۔
اے کاش کہ یہ مسائل، علمی اور خصوصی جلسوں اور شیعہ سنی علماء کی موجودگی میں بیان کئے جاتے نہ میڈیا پر۔
بنابرایں، ہم یہاں پر ایک تجویز پیش کرتے ہیں کہ شیعہ اور سنی دونوں مذاہب کے بزرگ علماء کی موجودگی میں ایک علمی کانفرنس منعقد کی جائے تاکہ اس میں اسلامی اتحاد کی راہ میں پائی جانے والی اہم ترین رکاوٹوں کی چھان بین کی جائے اور دوسری جانب سے اسلامی وحدت کو تقویت پہنچانے والے اہم ترین اقدامات عمل میں لائے جائیں اور آخر میں اس علمی کانفرنس کے نتائج کو لازم الاجرا ہونے کے طور پر تمام امت مسلمہ کے لیے بیان کئے جائیں۔
ہمیں امید ہے کہ آپ ہماری اس تجویر کو قبول کریں گے تاکہ شیعہ حضرات مجبور نہ ہوں آپ کی جانب سے شیعوں پر لگائے گئے اتہامات کا میڈیا اور سیٹلائٹ چینلز کے ذریعے جواب دیں۔
آخر میں ایک بار پھر آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی فضا قائم کرنے میں اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔ خداوند عالم سے آپ کے لیے مزید توفیقات کے خواہاں ہیں۔
                                                                       قم ــ ناصر مکارم شيرازی
                                                                      29 رمضان المبارک 1436


منبع : ابنا
 نظرات کاربران 
نام و نام خانوادگی لطفا نظرتان رو درباره این مطلب وارد نمایید*
پست الکترونیکی
لطفا عبارت بالا را وارد نمایید(سیستم نسبت به کوچک یا بزرگ بودن حساس نمی باشد)

نشاني: قم، خیابان شهید فاطمی (دورشهر) بین کوچه 21 و 23 پلاک 317
تلفن: 37732049 ـ 025 -- 37835397-025
پست الکترونيک : info@dinpajoohan.com
نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است
کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد