العربی   اردو   English   فارسی درباره ما     تماس با ما     اعضای موسسه
دوشنبه 2 مرداد 1396
تلگرام  اینستاگرام  آپارات  گوگل پلاس دین پژوهان  ایمیل دین پژوهان
کد : 15065      تاریخ : 1394/6/23 08:34:46      بخش : مذہب کے رسرچ کی خبریں print

حضرت امام محمد تقی کی وفات فطری طورپر نہیں ہوئی بلکہ آپ کو اس معتصم عباسی نے زہر دغا سے شہید کیا ،جس کے دل میں امام محمد تقی سے بغض کینہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔جب وہ مسلمانوں سے امام محمد تقی کے فضائل سنتاتھا تو اس کے نتھنے پھول جاتے تھے، اس نے اپنا حسد اس ظلم کے ار تکاب سے کیا، امام محمد تقی ؑ کو شہید کر نے کا ایک دوسرا سبب ابو داؤد کی شکایت بتایا جاتا ہے ،جب ایک فقہی مسئلہ میں معتصم نے امام محمد تقی ؑ کا حکم تسلیم کیا اور بقیہ فقہا ء کی رائے تسلیم نہیں کی اوروہ مسئلہ یہ تھا کہ ایک چور نے بذات خود اپنی چوری کا اقرار کیا ،معتصم نے اس پر حد جاری کر کے معاشر ہ کو پاک کرنا چاہا، اس نے فقہا اور امام محمد تقی ؑ کو اپنے دربار میں بلاکر ان کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیا تو ابو داؤد سحبتانی نے کہا : تیمم کے سلسلہ میں خدا کے اس فرمان : (فامسحوا بوجوھکم وَاَید یکم) کے مطابق اس کا گٹے سے ہاتھ کاٹ دیا جائے ۔ دوسرے فقہاء نے کہا چور کا کہنی سے ہاتھ کا ٹنا واجب ہے جس کی دلیل اللہ کا یہ فرمان :(وایدیکم الی المرافق ) ہے ۔  
معتصم نے امام محمد تقی کی طرف متوجہ ہو کر کہا :اے ابو جعفر آپ کا اس بارے میں کیا فرمان ہے ؟ ’’ قوم کے علما ء اس مسئلہ میں گفتگو کر چکے ہیں ‘‘۔جو کچھ انھوں نے کہا ہے اسکی وجہ سے مجھے میرے ہی حال پر رہنے دیجئے۔۔۔ معتصم نے امام محمدتقی ؑ کو خدا کی قسم دے کر کہا آپ اس مسئلہ کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں بیان کیجئے ۔’’جب تو نے مجھے خدا کی قسم دیدی ہے تو میں بھی تجھے بتاتا ہوں ان سب نے سنت میں غلطی کی ہے چور کے ہاتھ کی چاروں انگلیا ں کاٹ دیجئے اور ہتھیلی کو چھوڑ دیجئے ‘‘۔
معتصم نے کہا :کیوں ؟امام ؑ نے فرمایا: کیونکہ رسول اللہ (ص) فرماتے ہیں اعضا ء سجدہ سات ہیں، پیشانی دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں دونوں گھٹنے اور دونوں پیر اگر اس کا ہاتھ گٹے سے یا کہنی سے کاٹ دیا جائے گا تو اس کے سجدہ کر نے کیلئے ہاتھ ہی نہیں رہے گا اور خدا فر ما تا ہے:( وَاَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰہِ ) ،یعنی یہی سات اعضاء جن پر سجدہ کیا جاتا ہے اللہ کیلئے ہیں ۔اور جو چیز اللہ کیلئے ہو تی ہے اسے قطع نہیں کیا جاتا ہے۔امام محمد تقی ؑ کے فتوے اور استد لال سے معتصم ہکا بکارہ گیا اس نے چو ر کی ہتھیلی کو چھو ڑکر بقیہ انگلیاں کاٹنے کا حکم دیدیا اور بقیہ فقہاء کی رائے تسلیم نہیں کی ابو داؤ د غیظ و غضب میں بھر گیا، اس نے تین دن کے بعد معتصم سے آکر کہا :مجھ پر امیر المو منین کو نصیحت کر نا واجب ہے اور میں ایسی بات کر تا ہو ں جسکے ذریعہ مجھے معلوم ہے کہ جہنم میں جا ؤ نگا۔معتصم نے جلدی سے کہا :وہ کیا ہے ؟امیر المومنین نے ایک مجلس میں اپنی رعیت کے تمام فقہاء اورعلماء کو جمع کیا اور ان سے دینی امر کے متعلق سوال کیا تو وہ اس مسئلہ کے بارے میں جو کچھ جانتے تھے انھوں نے اس کو بتایا ،اس مجلس میں اس کے اہل بیت وزیر وزرا اور نامہ نگار موجود تھے اور دروازہ کے پیچھے سے لوگ اس کی بات سن رہے تھے پھر اس نے ایک شخص کی وجہ سے تمام فقہا کی بات رد کر تے ہو ئے اس کا قول قبول کر لیا جس کو اس امت کا امام بتایا جا تا ہے اور یہ ادعاکیاجاتا ہے کہ ان کامقام ومنصب سب سے اولیٰ ہے پھر امیر فقہاء کے حکم کو چھوڑتے ہوئے اسی امام کے حکم کو نافذ کرتا ہے ؟معتصم کا رنگ متغیر ہوگیا ،اس نے اس کی بات کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا:خداتجھے اس نصیحت کے عوض خیر عطا کرے۔
معتصم بادشاہوں کونصیحت کرنے والے اسی نام نہاد فقیہ کو امام ؑ کو قتل کرنے کیلئے بھیجا،وائے ہواس پر جو عظیم گناہ کامرتکب ہوااوران ائمہ اہل بیت ؑ میں سے ایک امام کوقتل کرنے میں شریک ہواجن کی محبت کواللہ نے ہرمسلمان مرداورعورت پرواجب قراردیاہے۔راویوں میں اس شخص کے بارے میں اختلاف پایاجاتاہے جس کو معتصم نے امام ؑ کو قتل کرنے کیلئے بھیجاتھا۔ بعض راویوں نے نقل کیاہے کہ اس نے اپنے بعض زیروں کے بعض کاتبوں کو امام ؑ کے قتل کرنے کے لئے روانہ کیاتھا۔ایک کاتب نے امام ؑ کی اپنے گھر میں زیارت کی غرض سے دعوت کی تو امام ؑ نے انکارفرمادیا،لیکن جب اس نے بہت زیادہ اصرارکیااور امام ؑ کے پاس اس کی دعوت قبول کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہ گیا۔امام ؑ اس کے گھر تشریف لے گئے جب کھانا تناول کیاتو آپ ؑ نے زہر کا احساس کیا آپ اپنی سواری پر سوارہوکراس کے گھرسے نکل آئے، دوسرے راویوں نے یوں بیان کیاہے کہ معتصم نے امام ؑ کی زوجہ اور اپنی بھتیجی ام الفضل کو بہکایاکہ اگر وہ امام ؑ کوزہر دیدے گی تومیں اس کواتنامال دونگا۔بہرحال زہراپناکام کرگیا۔امام کوسخت تکلیف ہونے لگی،آنتیں کٹ گئیں،عباسی حکومت کے عہدیداروں نے صبح کے وقت بیماری کی وجہ معلوم کرنے کی غرض سے احمد بن عیسیٰ کو بھیجا موت امام ؑ کے قریب ہورہی تھی حالانکہ ابھی آپ نے عنفوان شباب میں ہی قدم رکھاتھا۔جب آپ کو بالکل موت کے قریب ہونے کایقین ہوگیاتوآپ ؑ نے قرآن کریم کے سوروں کی تلاوت کرنا شروع کردیا اور آخری دم تک تلاوت کرتے رہے،آپ کی موت سے دنیائے اسلام کے قائدوامام کا نور ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگیا۔امام ؑ کی موت سے رسالت اسلامیہ کاوہ صفحہ بند ہوگیا جس نے فکرکوروشنی بخشی اور علم وفضل کی زمین کوبلندی عطا کرکے اسے منورکیا۔
آپ کی تجہیزوتکفین
امام محمدتقی ؑ کو غسل وکفن دیاگیااوریہ تمام امورامام علی نقی علیہ السلام نے انجام دئے نماز جنازہ پڑھائی اس کے بعدآپ کے جنازہ کو بڑی ہی شان وشوکت سے قریش کے مقبرہ تک لایاگیاآپ ؑ کے جنازہ میں جم غفیرنے شرکت کی جس میں وزراء ،کُتّاب اورعباسی وعلوی خاندان کے بڑے بڑے عہدیدارپیش پیش تھے ،وہ بڑے حزن والم سے کہہ رہے تھے کہ عالم اسلام خسارہ میں ہے آپ کاجسداطہر مقابرقریش تک پہنچااورآپ ؑ کے جدبزرگوارامام موسیٰ بن جعفر کی قبر مطہرکے پہلومیں دفن کردیاگیاآپ کے ساتھ ہی انسانی اقدار کاقوام اوربلندوبالااسوہ حسنہ بھی دنیا سے رخصت ہوگئے۔
امام ؑ کی عمر
آپ ؑ کی عمر ۲۵ برس تھی،آپ سن کے اعتبار سے تمام ائمہ میں سب سے کم عمر تھے ، اور آپ نے اپنی یہ چھوٹی سی عمر لوگوں کے درمیان علم وفضل اور ایمان کو نشرکرنے میں صرف کردی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


منبع : ابنا
 نظرات کاربران 
نام و نام خانوادگی لطفا نظرتان رو درباره این مطلب وارد نمایید*
پست الکترونیکی
لطفا عبارت بالا را وارد نمایید(سیستم نسبت به کوچک یا بزرگ بودن حساس نمی باشد)

مطالب مرتبط
تازه ترین مطالب
نشاني: قم، خیابان شهید فاطمی (دورشهر) بین کوچه 21 و 23 پلاک 317
تلفن: 37732049 ـ 025 -- 37835397-025
پست الکترونيک : info@dinpajoohan.com
نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است
کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد