العربی   اردو   English   فارسی درباره ما     تماس با ما     اعضای موسسه
سه شنبه 3 اسفند 1395
تلگرام  اینستاگرام  آپارات  گوگل پلاس دین پژوهان  ایمیل دین پژوهان
کد : 15835      تاریخ : 1395/6/27 10:44:30      بخش : مذہب خبر کے مطالعہ print

 

محمد بن طلحہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت امام ھادی علیہ السلام ایک اہم کام کے لیۓ سامرہ سے ایک گاؤں میں گۓ ،ایک عرب شخص آپ کے دروازہ پر آیا جو آپ سے ملنا چاہتا تھا ، اس سے کہا گیا : کہ فلاں جگہ گۓ ہیں ، چنانچہ وہ شخص وہاں پہنچ گیا ۔
جب حضرت امام ھادی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو آپ نے اس سے فرمایا : تمہاری حاجت کیا ہے : اس نے کہا : میں کوفہ کا رہنے والا ایک عربی شخص ہوں اور آپ کے جد علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت سے متمسک ہوں ،مجھ پر بہت زیادہ قرض ہے کہ جس کو میں برداشت نہیں کر سکتا ، آپ کے علاوہ کسی دوسرے کو نہیں پاتا کہ وہ میرے قرض کو ادا کر دے ۔
حضرت امام ھادی علیہ السلام نے فرمایا : خوش و خرم رہو ، اس کے بعد اس کو سواری سے اتارا اور اپنا مہمان بنا لیا ، جب صبح ہوئی تو امام علیہ السلام نے اس سے فرمایا : تم سے ایک درخواست ہے اور ہرگز اس کی مخالفت نہ کرنا ! اس عرب نے کہا : میں آپ کی مخالفت نہیں کروں گا ۔
امام علیہ السلام نے ایک کاغذ پر اپنے قلم سے لکھا اور اقرار کیا کہ اس عرب کا مجھ پر قرض ہے لیکن اس کی مقدار اس عرب کے قرض سے زیادہ تھی، اس کے بعد فرمایا :
یہ تحریر لے لو ، جب سامرہ پہنچو تو میرے پاس آنا ،وہاں چند لوگ میرے پاس بیٹھے ہونگے ، اس تحریر کے ساتھ مجھ سے سختی سے اپنے پیسوں کا مطالبہ کرنا ،خدارا ہرگز میری مخالفت نہ کرنا ، چنانچہ اس عرب نے وہ تحریر لے کر کہا کہ : میں اسی طرح انجام دوں گا ۔
جب حضرت امام ھادی علیہ السلام سامرہ پہنچ گۓ، آپ کے پاس خلیفہ کے بعد سے دوست اور ان کے علاوہ دوسرے افراد بیٹھے ہوۓ تھے کہ عرب وارد ہوا اور اس نے وہ تحریر دکھائی اور مال کا مطالبہ کیا اور جس طرح امام علیہ السلام نے تاکید فرمائی تھی گفتگو کی ۔
امام علیہ السلام نے نرمی کے ساتھ اس سے گفتگو کی اور اس کے ساتھ مہربانی کی اور اس سے معذرت چاہی اور ان کے قرض کو ادا کرنے اور اس کو خوش کرنے کا وعدہ کیا ۔
امام علیہ السلام اور اس عرب کے اس واقعہ کی خبر متوکل تک پہنچی ،متوکل نے حکم دیا کہ تیس ہزار درہم حضرت امام ھادی علیہ السلام کے لیۓ لے جاؤ اور جب وہ درہم آپ (ع) کی خدمت میں پہنچاۓ گۓ امام (ع) نے ان کو ہاتھ نہیں لگایا یہاں تک کہ عرب آ گیا ، امام (ع) نے اس سے فرمایا :
یہ مال لے جاؤ اور اپنا قرض ادا کرو اور باقی کو اپنے اھل و عیال پر خرچ کرو اور ہمارے عذر کو بھی قبول کرو ۔
اس عربی نے کہا : یا بن رسول اللہ ! خدا کی قسم ،میری امید تو اس مال کا ایک تہائی حصہ تھی لیکن خدا جانتا ہے کہ اپنی رسالت کو کس جگہ قرار دے ، چنانچہ اس نے مال لیا اور حضرت امام ھادی علیہ السلام کی خدمت سے رخصت ہو گیا ۔



 نظرات کاربران 
نام و نام خانوادگی لطفا نظرتان رو درباره این مطلب وارد نمایید*
پست الکترونیکی
لطفا عبارت بالا را وارد نمایید(سیستم نسبت به کوچک یا بزرگ بودن حساس نمی باشد)

تازه ترین مطالب
نشاني: قم، خیابان شهید فاطمی (دورشهر) بین کوچه 21 و 23 پلاک 317
تلفن: 37732049 ـ 025 -- 37835397-025
پست الکترونيک : info@dinpajoohan.com
نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است
کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد